Saturday, 9 January 2021

بچھڑا ہوا موجود ہے

 بچھڑا ہوا موجود ہے


جانے والے تو گیا کب ہے

مِرے دامن میں

تیرے خوش رنگ دلاسوں کا دھواں جاگتا ہے

میرے جوتوں میں تِرے پاؤں پڑے ہیں اب تک

آج بھی میں انھیں دھو دھو کے پیا کرتا ہوں

تیری خوشبو پہ کبھی گرد نہیں جمنے دی


تیری پھینکی ہوئی باتوں کو لبوں میں بھر کر

تیرے لہجے کی شباہت میں

اتر جانے کا

لطف وہ جانے جسے ہجر ملے

تیرے کاٹے ہوئے موسم سے کوئی دَھجی اگر

ہاتھ آئے تو ذخیرہ اسے کر لیتا ہوں

تیری اُترن سے اٹھاتا ہوں نئی دَھج کا جواز

تیرے دیکھے ہوئے خوابوں پہ مجھے نیند آئے

میرے آئینے میں روشن ہے ابھی تیرا وجود

رات ہوتی ہے تو بستر پہ رکھا تیرا خیال

میرے سینے کے جزیرے سے لپٹ جاتا ہے

جانے والے تُو گیا کب ہے

مِرے ہاتھوں سے

تیرے بوسوں کی ابھی تازہ مہک آتی ہے


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment