Saturday, 9 January 2021

نہ جانے کیا خریدنے گھر سے چلی تھی

 نہ جانے کیا خریدنے

گھر سے چلی تھی

کہیں کچھ بھی ایسا

بازار میں نہیں

جو دامن گیر ہوتا

اب

خالی ہاتھ

تماشائی بنی

بازار سے گزر جاؤں گی


شبنم عشائی

No comments:

Post a Comment