روح کو قالب کے اندر جاننا مشکل ہوا
لفظ میں احساس کو پہچاننا مشکل ہوا
لے اڑی پتے ہوا تو شاخِ گُل بے بس ہوئی
پھول پر سائے کی چادر تاننا مشکل ہوا
اپنے خلوت خانۂ دل سے جو نکلے تو ہمیں
سب کے غم میں اپنا غم بھی جاننا مشکل ہوا
وقت نے جب آئینہ ہم کو دکھایا، رو پڑے
اپنی صورت آپ ہی پہچاننا مشکل ہوا
اِس مشینی عہد میں کیا ذات کیا عرفانِ ذات
آدمی کو آدمی گرداننا مشکل ہوا
دل نہ چھوٹا کیجئے ناقدرئ احباب پر
عیب جُویوں کو ہنر پہچاننا مشکل ہوا
کیا کریں جاوید اِس بہروپیوں کے دیس میں
گُل کو گُل کانٹے کو کانٹا ماننا مشکل ہوا
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment