Thursday, 8 April 2021

میں رفتہ رفتہ اداسیوں سے نکل رہا ہوں

 میں رفتہ رفتہ اداسیوں سے نکل رہا ہوں 

تو کیا یہ کم ہے تمہاری خاطر بدل رہا ہوں 

حسین لڑکی تمہارے آنے سے خوش ہوا ہوں

وگرنہ پچھلے کئی مہینوں سے جل رہا ہوں

یہ گرد مجھ کو بتا رہی ہے کہ؛ لوٹ جاؤ

اور ایک میں ہوں کہ دشت کی سمت چل رہا ہوں

کرم ہے ان کا میں ان کے منگتوں میں آ گیا ہوں

عطا ہے ان کی کہ میں ان کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہوں

تُو پہلے جیسا نہ رکھنا مجھ سے رویہ اپنا 

میں آج ویسا نہیں ہوں جیسا میں کل رہا ہوں

میں کیا بتاؤں کہ جیسے تیسے گزر رہی ہے

بڑی مشقت سے زندگانی نِگل رہا ہوں


نثار سلہری

No comments:

Post a Comment