میں رفتہ رفتہ اداسیوں سے نکل رہا ہوں
تو کیا یہ کم ہے تمہاری خاطر بدل رہا ہوں
حسین لڑکی تمہارے آنے سے خوش ہوا ہوں
وگرنہ پچھلے کئی مہینوں سے جل رہا ہوں
یہ گرد مجھ کو بتا رہی ہے کہ؛ لوٹ جاؤ
اور ایک میں ہوں کہ دشت کی سمت چل رہا ہوں
کرم ہے ان کا میں ان کے منگتوں میں آ گیا ہوں
عطا ہے ان کی کہ میں ان کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہوں
تُو پہلے جیسا نہ رکھنا مجھ سے رویہ اپنا
میں آج ویسا نہیں ہوں جیسا میں کل رہا ہوں
میں کیا بتاؤں کہ جیسے تیسے گزر رہی ہے
بڑی مشقت سے زندگانی نِگل رہا ہوں
نثار سلہری
No comments:
Post a Comment