جلوے تجھے دکھائیں گے بس انتظار کر
ہم کون ہیں؟ بتائیں گے، بس انتظار کر
جی بھر کے ہم کو خون کے آنسو رُلا تُو آج
کل ہم تجھے رُلائیں گے، بس انتظار کر
جب تک قلم سے کام چلے گا، چلائیں گے
پھر تیغ بھی اٹھائیں گے، بس انتظار کر
خاموش ہیں تو گونگا سمجھ بیٹھا ہے ہمیں
ہم شور بھی مچائیں گے، بس انتظار کر
مسند پہ تجھ کو ہم نے بٹھایا ہے یہ نہ بھُول
ہم ہی تجھے اُٹھائیں گے، بس انتظار کر
ورون آنند
No comments:
Post a Comment