Sunday, 20 June 2021

جب ہو گیا کمال تو سگریٹ جلا لیا

 جب ہو گیا کمال تو سگریٹ جلا لیا

یا پھر ہوا ملال تو سگریٹ جلا لیا

خود پر کسی کو ہنسنے کا موقع نہیں دیا

پوچھا کسی نے حال تو سگریٹ جلا لیا

سوکھے گلے سے لفظ کو لانا تھا ذہن تک

جب آ گیا خیال تو سگریٹ جلا لیا

غصے میں خوں کے گھونٹ تو پیتا رہا مگر

آنکھیں ہوئیں جو لال تو سگریٹ جلا لیا

اچھی نہیں ہے شے مگر احیا میں کیا کروں

کرنا ہے شکر حال تو سگریٹ جلا لیا


احیاالسلام بھوجپوری

احیاء بھوجپوری

No comments:

Post a Comment