میں جانتا ہوں
تم اس قدر دیوتا تو ہو ہی کہ دل کے حالات جانتے ہو
سوال لب پہ نہ آنے پائے
دعا کو حرفِ قبولیت بھی عطا کرو تم
تم اس قدر بھی خدا نہیں ہو
میں اپنے دامن کا کل اثاثہ
ملا کے مٹی میں ہاتھ جوڑوں
اور اپنے ہونے کی بھیک مانگوں
میں اس قدر آدمی نہیں ہوں
سلمان حیدر
No comments:
Post a Comment