کہہ رہی ہے وہ نظر ہنستے رہو
بھُول کر عیب و ہُنر ہنستے رہو
ہو کے خود سے بے خبر ہنستے رہو
شوخیٔ تقدیر پر ہنستے رہو
غمزدہ رہنے سے کچھ حاصل نہیں
زندگی ہے مختصر ہنستے رہو
تم پہ اب اُنگلی نہ اُٹھے گی کوئی
ہنسنے والو! بے خطر ہنستے رہو
اس صدی کا کوئی مستقبل نہیں
اہلِ فن، اہلِ نظر ہنستے رہو
محمود احمد نشتری
No comments:
Post a Comment