کسی تارے، کسی مہتاب میں ڈھل جاتا ہے
یا مرے دیدہٴ پُر آب میں ڈھل جاتا ہے
دیکھتے دیکھتے ان آنکھوں سے چہرہ کوئی
جانے کس حلقہٴ گرداب میں ڈھل جاتا ہے
ساتھ رہتا ہے کوئی موجِ نفس کی صورت
اور پھر لمحہٴ نایاب میں ڈھل جاتا ہے
ماں بھی اک روز ہمیں چھوڑ کے چل دیتی ہے
یہ نگینہ بھی کسی آب میں ڈھل جاتا ہے
چھین لیتا ہے کوئی دستِ دعا بھی ہم سے
اور کوئی خلوتِ محراب میں ڈھل جاتا ہے
کوئی سورج کی طرح رکھتا ہے روشن ہم کو
اور پھر اپنی تب و تاب میں ڈھل جاتا ہے
جاگتا ہے کوئی راتوں کو ہماری خاطر
اور پھر نیند کے سیلاب میں ڈھل جاتا ہے
پہلے ہوتا ہے نگاہوں سے وہ اوجھل کچھ دیر
پھر وہی شخص کسی خواب میں ڈھل جاتا ہے
ایک دریا ہے جو گرتا ہے سمندر میں کہیں
اک سمندر کسی پایاب میں ڈھل جاتا ہے
گیت جو کانوں میں رس گھولتا رہتا ہے ندیم
کیوں وہی گریہٴ خونناب میں ڈھل جاتا ہے
رشید ندیم
No comments:
Post a Comment