جس کی آنکھوں میں کوئی رنگِ شناسائی نہ تھا
اس سے ملنے کا مِرا دل بھی تمنائی نہ تھا
ہم دیارِ غیر میں کہتے رہیں ہیں دل کی بات
ایک اپنے شہر ہی میں اذنِ گویائی نہ تھا
جذبۂ دل کے بہک جانے سے رُسوا ہو گئے
کوچۂ محبوب ورنہ کُوئے رُسوائی نہ تھا
ظُلمتِ شب کو جہاں نُورِ سحر کہتے تھے لوگ
میرا سچ کہنا سزاوارِ پذیرائی نہ تھا
تیری بے مہری نہ تھی، کوتاہئ قسمت بھی تھی
کار زارِ دل میں ورنہ شوقِ پسپائی نہ تھا
میری اپنی ذات ہی اک انجمن سے کم نہ تھی
اس لیے سجاد مجھ کو خوفِ تنہائی نہ تھا
سجاد مرزا
No comments:
Post a Comment