پیار کر کے مُکر گئی ہو تم
میرے دل سے اُتر گئی ہو تم
جانتے ہی نہیں مجھے ایسے
سامنے سے گزر گئی ہو تم
بھیگ جانے سے کیوں پریشان ہو
اور بھی کچھ سنور گئی ہو تم
اک خلا سا تھا میرے جیون میں
میری بانہوں میں بھر گئی ہو تم
کیا تمہیں کوئی اب یہ کہتا ہے
بال دھو کر نکھر گئی ہو تم
میں نے شاذف کہا یہ خوشبو سے
مجھ کو کھو کر بکھر گئی ہو
علی شاذف باقری
No comments:
Post a Comment