Sunday, 20 June 2021

میں تمہارے علاوہ کسی سے بیوفائی نہیں کر سکتا

 میں تمہارے علاوہ کسی سے بے وفائی نہیں کر سکتا تھا

میں نے تمہارے علاوہ

کسی سے محبت نہیں کی

میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تھا

سوائے اس راز کے

کہ کئی بار محبت کم پڑ جاتی ہے

ہم اپنا آپ ایک دوسرے کے اندر اُنڈیل کر بھی خالی تھے

سو میں نے کہانیاں تراشیں

جن میں تم نہیں تھیں

تاکہ تم انہیں سن سکو

اور نظمیں لکھیں

جن میں راستہ چلتے چہرے جھلملاتے تھے

جنہیں تم آتے جاتے دیکھ سکتی تھیں

میں نے تمہارے ذہن میں سوال بوئے

اور انہیں رَت جگوں کا پانی دیا

میں نے تمہارے خواب کارنس پر رکھ دئیے

تاکہ وہ گر کر ٹوٹ جائیں

میں نے تمہاری خواہشیں گرد آلود کتابوں میں دبا دیں

اور ان کے بد رنگ ہو جانے کی ذمہ داری وقت پر عائد کی

میں نے تم سے سچ بولے جو جھُوٹے تھے

اور جھُوٹ چھپا لیے جو سچے نکل سکتے تھے

میں نے تمہیں خود پر عائد کرنے کے لیے الزام فراہم کیے

اور انہیں درست ثابت کرنے کے لیے خاموشی اوڑھے رکھی

میرا جُرم تمہیں میسر نہ ہونے کے علاوہ کچھ نہیں تھا

اور اس کی تلافی میرے خود کو دستیاب ہوئے بغیر ممکن نہیں


سلمان حیدر

No comments:

Post a Comment