Tuesday, 19 October 2021

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا

 مجھ کو تِرے سلوک سے کوئی گِلہ نہ تھا

زہر اب پی رہا تھا مگر لب کشا نہ تھا

کانٹوں سے جسم چھلنی ہے میرا اسی لیے

پھولوں سے پیار کرنے کا کچھ تجربہ نہ تھا

لاکھوں تماش بین ہیں، اور ہم صلیب پر

اک وقت وہ تھا کوئی ہمیں دیکھتا نہ تھا

کیا جانے اس کی آنکھ میں کیوں اشک آ گئے

چہرے پہ میرے کچھ بھی تو لکھا ہوا نہ تھا

دنیا سمجھ نہ پائے گی مجبوریاں تِری

مجھ کو تو ہے یقین کہ تُو بے وفا نہ تھا

کیا تُو نے چھوڑ رکھا ہے زُلفیں سنوارنا

اتنا تو پہلے میں کبھی اُلجھا ہُوا نہ تھا

غُربت کی چاندنی نے دکھائے تھے راستے

ہم کو کسی چراغ سے کوئی گِلہ نہ تھا

یادوں نے دستکیں تو بہت بار دیں شکیل

لیکن کسی کے دل کا دریچہ کُھلا نہ تھا


شکیل شمسی

No comments:

Post a Comment