Tuesday, 19 October 2021

رحمت بن کر میں آتی ہوں بیٹی ہوں ناں

 رحمت بن کر میں آتی ہوں، بیٹی ہوں ناں

پر دنیا کو کب بھاتی ہوں، بیٹی ہوں ناں

بابا کی دستار پہ حرف نہ آ جائے

آنکھ اُٹھے تو گھبراتی ہوں، بیٹی ہوں ناں

ہر چھوٹی سی بات بھی دل کو لگ جاتی ہے

لیکن پھر بھی مُسکاتی ہوں، بیٹی ہوں ناں

اپنے حق کی خاطر بولنا گستاخی ہے

اونچا بول کے پچھتاتی ہوں، بیٹی ہوں ناں

گھر کی عزت بیٹی سے مشروط ہوئی ہے

شہری ہوں یا دیہاتی ہوں، بیٹی ہوں ناں

بیٹے چاہے جو بھی مانگیں، کیا الجھن ہے

مانگنے سے بھی شرماتی ہوں، بیٹی ہوں ناں

درد، جُدائی اور پھر اس پر جگ کے طعنے

سب چُپ کر کے سہہ جاتی ہوں، بیٹی ہوں ناں


افشاں کنول

No comments:

Post a Comment