Tuesday, 19 October 2021

جب تک تجھ کو موت نہ آئے کر لے رین بسیرا بابا

جب تک تجھ کو موت نہ آئے کر لے رین بسیرا بابا

آتی جاتی اس دنیا میں کیا میرا کیا تیرا بابا؟

گاؤں میں ٭سندھیا ہو کے یہ کیا ہے بند ہوئے ہیں سب دروازے

بیری جگ میں تاک میں ہے اب ایک اک سائیں لٹیرا بابا

ایک سیاسی چال کی خاطر کتنا بھیانک قتل ہوا ہے

پورب، پچھم، اُتر، دکھن نکلا سرخ سویرا بابا

بہنے والی ندیا کو بھی کب اس کا احساس ہوا ہے

کتنی کھیتی ٭٭نشٹ ہوئی ہے جب اس نے رخ پھیرا بابا

اس کے روشن مُکھڑے پر یہ بکھری بکھری کالی زلفیں

 جیسے جگ کے اُجیاروں پر چھائے گھور اندھیرا بابا

کوئی نہیں تھا ٭٭٭استھاپت تو اس میں تھے سناٹے گہرے

میرے من مندر میں آ کر کس نے شور بکھیرا بابا

دین دھرم کے پنڈت مُلا اچھے ٹھیکیدار بنے ہیں

چل کر دور کہیں بستی سے ڈالیں اپنا ڈیرا بابا

چھوٹی چھوٹی بوندوں ہی سے تال تلیاں بن جاتی ہیں

چھوٹے چھوٹے پھل والا ہی دیکھا پیڑ گھنیرا بابا

روپ نہ تم نے مجھ کو دکھایا شمس پہ کرتے دان ہی کچھ تو

برسوں تمہاری اس نگری میں منگتا بن کر ٹھیرا بابا


شمس رمزی

ہندی لفظوں کے معنی

٭سندھیا= دن اور رات کے ملنے کا وقت

٭٭نشٹ= ضائع، تباہ

٭٭٭استھاپت= موجود

No comments:

Post a Comment