خِرد کی راہ میں ہر موڑ پر دھوکے نکل آئے
بساطِ امن پر بھی جنگ کے نقشے نکل آئے
ضروری ہے ہم اپنی زندگی کو آئینہ رکھیں
یہ چادر کون اوڑھے گا اگر دھبے نکل آئے؟
بہت دن بعد جب میں نے خودی کا آئینہ دیکھا
تو خود میرے ہی چہرے سے کئی چہرے نکل آئے
کبھی ہارے سپاہی کی طرح واپس نہیں پلٹے
ہم آنسو کی طرح اک بار جو گھر سے نکل آئے
ہتھیلی پر اُگانا چاہتے ہیں کھیت سرسوں کے
مِرے بچے تو اپنی عمر سے آگے نکل آئے
جلوسِ امن جب نکلا تو ہم نے شوق یہ دیکھا
کہیں خنجر نکل آئے، کہیں نیزے نکل آئے
سنجے مشرا شوق
سنجے مصرا شوق
No comments:
Post a Comment