نقش پہلے مٹائے جاتے ہیں
پھر پری وش دکھائے جاتے ہیں
کیا خبر تھی کہ بے گناہوں کے
سر سِناں پر سجائے جاتے ہیں
پوچھوں زہرہ جبیں کی مورت سے
عکس کیسے چھپائے جاتے ہیں
محفلِ شب کی گُل فشانی میں
عادتاً ہم بلائے جاتے ہیں
کس دوشیزہ میں حسنِ قاتل ہے
روز لاشے اٹھائے جاتے ہیں
پوچھے کوئی اداس چہروں سے
اشک کیسے بہائے جاتے ہیں
جس کو خود عشق انتخاب کرے
سر وہی دار پہ لائے جاتے ہیں
سلسلہ جڑ سے رواں ہوتا ہے
پہلے حاذق بنائے جاتے ہیں
حاذق امر
No comments:
Post a Comment