زہرِ غم پی کر جو لہراتا نہیں
پینے والوں میں گِنا جاتا نہیں
بال و پر تو ہیں مگر یہ حال ہے
آشیانے تک اڑا جاتا نہیں
اور تو سب کچھ ہے ان کی بزم میں
میری باتیں سن کے واعظ نے کہا
‘کوئی اس کافر کو سمجھاتا نہیں’
پاؤں پھیلانے سے ہو جس کو گریز
ہاتھ بھی اپنے وہ پھیلاتا نہیں
حالِ دل ان سے کہوں تو کیا کہوں
‘کہتے ہیں ’یہ تو سنا جاتا نہیں
تیری ہستی کیوں اسے ٹھکرائے گی
اپنی ہستی کو جو ٹھکراتا نہیں
جو محبت کو سمجھ لے زندگی
دردِ دل بھی اس کو تڑپاتا نہیں
پھر اٹھایا جوشؔ تم نے جامِ مے
ہوش میں آ کر بھی ہوش آتا نہیں
جوش ملسیانی
No comments:
Post a Comment