Sunday, 8 November 2015

دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں

دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں
اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں
قصۂ درد لیے پھِرتی ہے گلشن کی ہوا
میرے دامن میں تِرے پیار کی خوشبو بھی نہیں
چھِن گیا میری نگاہوں سے بھی احساسِ جمال
تیری تصویر میں پہلا سا وہ جادو بھی نہیں
موج در موج تِرے دل کی شفق کھلتی ہے
مجھے اس سلسلۂ رنگ پہ قابو بھی نہیں
دل وہ کمبخت کہ دھڑکے ہی چلے جاتا ہے
یہ الگ بات کہ تُو زینتِ پہلو بھی نہیں
یہ عجب راہِگزر ہے کہ چٹانیں تو بہت
اور سہارے کو تِری یاد کے بازو بھی نہیں

نور بجنوری

No comments:

Post a Comment