دل کے صحرا میں کوئی آس کا جگنو بھی نہیں
اتنا رویا ہوں کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں
قصۂ درد لیے پھِرتی ہے گلشن کی ہوا
میرے دامن میں تِرے پیار کی خوشبو بھی نہیں
چھِن گیا میری نگاہوں سے بھی احساسِ جمال
موج در موج تِرے دل کی شفق کھلتی ہے
مجھے اس سلسلۂ رنگ پہ قابو بھی نہیں
دل وہ کمبخت کہ دھڑکے ہی چلے جاتا ہے
یہ الگ بات کہ تُو زینتِ پہلو بھی نہیں
یہ عجب راہِگزر ہے کہ چٹانیں تو بہت
اور سہارے کو تِری یاد کے بازو بھی نہیں
نور بجنوری
No comments:
Post a Comment