Sunday, 8 November 2015

آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے

آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے
شام ڈھلے ان کہساروں میں اپنا کھوج نہ پاؤ گے
جانے پہچانے سے چہرے اپنی سمت بلائیں گے
قدم قدم پر لیکن اپنے سائے سے ٹکراؤ گے
ہر ٹیلے کی اوٹ سے لاکھوں وحشی آنکھیں چمکیں گی
ماضی کی ہر پگڈنڈی پر نیزوں میں گھِر جاؤ گے
پھنکاروں کا زہر تمہارے گیتوں پر جم جائے گا
کب تک اپنے ہونٹ مِری جاں سانپوں سے ڈسواؤ گے
چیخیں گی بدمست ہوائیں اونچے اونچے پیڑوں میں
روٹھ کے جانے والے پتو! کب تک واپس آؤ گے
جادو نگری ہے یہ پیارے! آوازوں پر دھیان نہ دو
پیچھے مُڑ کر دیکھ لیا تو پتھر کے ہو جاؤ گے

نور بجنوری

No comments:

Post a Comment