آس کے رنگیں پتھر کب تک غاروں میں لڑھکاؤ گے
شام ڈھلے ان کہساروں میں اپنا کھوج نہ پاؤ گے
جانے پہچانے سے چہرے اپنی سمت بلائیں گے
قدم قدم پر لیکن اپنے سائے سے ٹکراؤ گے
ہر ٹیلے کی اوٹ سے لاکھوں وحشی آنکھیں چمکیں گی
پھنکاروں کا زہر تمہارے گیتوں پر جم جائے گا
کب تک اپنے ہونٹ مِری جاں سانپوں سے ڈسواؤ گے
چیخیں گی بدمست ہوائیں اونچے اونچے پیڑوں میں
روٹھ کے جانے والے پتو! کب تک واپس آؤ گے
جادو نگری ہے یہ پیارے! آوازوں پر دھیان نہ دو
پیچھے مُڑ کر دیکھ لیا تو پتھر کے ہو جاؤ گے
نور بجنوری
No comments:
Post a Comment