سر وہی، سنگ وہی، لذتِ آزار وہی
ہم وہی، لوگ وہی، کوچۂ دلدار وہی
اک جہنم سے دھکتا ہُوا، تاحدِ نظر
وقت کی آگ وہی، شعلۂ رفتار وہی
شیشہٴ چشم پہ چھایا ہُوا اک زلف کا عکس
عرصہٴ حشر کبھی ختم بھی ہو گا کہ نہیں
وہی انصاف کی میزان، گناہگار وہی
تم سلامت رہو، یوسفؑ کی ضرورت کیسی
اہلِ فن! آج بھی ہے رونقِ بازار وہی
میں بھی زندہ ہوں، تِرا حسن بھی تابندہ ہے
چاند سے زخم وہی، پھول سی مہکار وہی
نورؔ میں اب بھی محبت کو عبادت جانوں
ہے مِرے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلوار وہی
نور بجنوری
No comments:
Post a Comment