نالۂ جاں گداز نے مارا
سوزِ الفت کے ساز نے مارا
یہ کہا پڑھ کے میرا نامۂ شوق
اس سراپا نیاز نے مارا
منہ سے اف بھی تو کر نہیں سکتے
زندگی چین سے گزرتی تھی
چشمِ نظارہ باز نے مارا
داد بھی شوقِ دید کی نہ ملی
جلوۂ بے نیاز نے مارا
موت کی زد سے بچ گیا جو کوئی
اس کو عمرِ دراز نے مارا
انگلیاں ہر طرف سے اٹھتی ہیں
طرۂ امتیاز نے مارا
کوئی دمساز، کوئی ہے جانباز
آپ کے ساز باز نے مارا
جوش ملسیانی
No comments:
Post a Comment