Monday, 7 November 2016

کسی مہ وش سے الفت ہو گئی کیا

کسی مہ وش سے الفت ہو گئی کیا
کہو! خود سے عداوت ہو گئی کیا
تِرے ہاتھوں میں پرچم عشق کا ہے
زمانے سے بغاوت ہو گئی کیا
بہت شیریں سخن، شیریں دہن ہو
محبت ایک عادت ہو گئی کیا
سجاۓ آنکھ میں فرقت کھڑے ہو
ملن کی آس رخصت ہو گئی کیا
دلِ ناداں کی دھڑکن بڑھ گئی ہے
جدائی اپنی قسمت ہو گئی کیا
کفِ افسوس کیسا زینؔ صاحب
لگی دل کی، قیامت ہو گئی کیا

اشتیاق زین

No comments:

Post a Comment