کسی مہ وش سے الفت ہو گئی کیا
کہو! خود سے عداوت ہو گئی کیا
تِرے ہاتھوں میں پرچم عشق کا ہے
زمانے سے بغاوت ہو گئی کیا
بہت شیریں سخن، شیریں دہن ہو
سجاۓ آنکھ میں فرقت کھڑے ہو
ملن کی آس رخصت ہو گئی کیا
دلِ ناداں کی دھڑکن بڑھ گئی ہے
جدائی اپنی قسمت ہو گئی کیا
کفِ افسوس کیسا زینؔ صاحب
لگی دل کی، قیامت ہو گئی کیا
اشتیاق زین
No comments:
Post a Comment