عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا
امت نے مجھ کو لوٹ لیا واہ محمدا
اس روز کون حقِ رفاقت کرے ادا
ہے ہے وہ زخم اور دو عالم کا مقتدا
انیس سو ہیں زخم تنِ چاک چاک پر
اے ارضِ کربلا! میرا بچہ ہے بے گناہ
اے دشتِ نینوا! میرا بچہ ہے بے گناہ
اے نہرِ علقمہ! میرا بچہ ہے بے گناہ
اے دہرِ بے وفا! میرا بچہ ہے بے گناہ
گھیرا ہے ظالموں نے میرے نورِ عین کو
اے ذوالفقار! تجھ سے میں لوں گی حسین کو
میر انیس
اقتباس از نوحۂ امام عالی مقام
No comments:
Post a Comment