Tuesday, 6 December 2016

جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا 
امت نے مجھ کو لوٹ لیا واہ محمدا
اس روز کون حقِ رفاقت کرے ادا 
ہے ہے وہ زخم اور دو عالم کا مقتدا
انیس سو ہیں زخم تنِ چاک چاک پر 
زینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر
اے ارضِ کربلا! میرا بچہ ہے بے گناہ 
اے دشتِ نینوا! میرا بچہ ہے بے گناہ 
اے نہرِ علقمہ! میرا بچہ ہے بے گناہ 
اے دہرِ بے وفا! میرا بچہ ہے بے گناہ
گھیرا ہے ظالموں نے میرے نورِ عین کو 
اے ذوالفقار! تجھ سے میں لوں گی حسین کو

میر انیس
اقتباس از نوحۂ امام عالی مقام

No comments:

Post a Comment