Tuesday, 6 December 2016

پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے

پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہے
مجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہے
اے مِرے بدمست! مت کر تُو غزالوں کا شکار
لے نا میرے دل کو چکھ، یہ زور ہی بریان ہے
کیا دعا دیتے ہو میاں، جیتے رہو جیتے رہو
زندگانی تو نہیں انگریز کا زِندان ہے
ایک بوسہ مچ مچا کر بیچ سے ہونٹوں کے دے 
پھر اگر دل تجھ سے مانگوں جان بھی نادان ہے
جس کی نیت میں دغا ہے آپ ہوتا ہے خراب
خوشہؑ گندم کو دیکھو کب سے داتا دان ہے
آہ کچھ چبھتا ہے اٹھتے بیٹھتے سینے کے بیچ
چیر کے دیکھو تو یہ الماس کا پیکان ہے
میرے سمجھانے کو آیا ہے بغل میں لے کتاب
ناک میں لایا ہے دَم، ناصح کوئی شیطان ہے
سوزؔ کا رتبہ کہاں پہنچا ہے جو تیری رضا
لوگ یہ کہتے ہیں اب تو صاحبِ دیوان ہے

میر سوز دہلوی

No comments:

Post a Comment