پری زاد
اے پری زاد لڑکی بتا
چائے کی میز کے سامنے بیٹھ کر
سوچ کی کن حدوں کو پھلانگے چلی جا رہی ہے
تجھے یہ پتہ ہے کہ
چائے تِری تیرے اس سرد برتاؤ کو دیکھ کر ٹھنڈی ہونے لگی ہے
مگر تُو نہ جانے کہاں گہری سوچوں میں کھوئی ہوئی ہے؟
تجھے کیا پتہ
چائے کا لال مگ تیرے ہاتھوں کو ترسا ہوا ہے
کہ تُو اس کو چھو لے ذرا
کتنے بسکٹ تِرے نرم ہونٹوں کو چھونے کی خواہش لیے
چائے میں ڈوب کر مر گئے
کتنی میزیں اسی چاہ میں ٹوٹ کر آگ میں جل گئی ہیں
کہ تُو ان پہ اپنے ملائم سے بازو رکھے
جانے کتنے خیالوں کی یہ آرزو ہے
کہ تُو ان کو سوچا کرے
جانے کتنے گویّے تِرے حلق سے نکلے اک ساز کو
اپنے کانوں میں محفوظ کرنے کا ارماں لیے مر گئے
کتنے شاعر تجھے دیکھ کر شعر کہنے کی خواہش لیے چل بسے
کتنی غزلوں کی خواہش ہے تُو ان کو بیٹھی ہوئی گنگنایا کرے
جانے کتنے سرہانے تِرے گال چھُونے کو ترسے ہوئے ہیں
کہ تُو ان کو اپنے پلنگ پر رکھے
کتنے جُھمکے تِرے کان سے جھُولنے کو
تڑپتے ہوئے اولڈ فیشنڈ ہوئے
بس تِری اک جھلک دیکھنے کے لیے
کتنی آنکھیں تجھے ڈھونڈتی رہ گئی ہیں
تجھے کیا خبر
ایک لڑکا تجھے دیکھنے روز آتا ہے
لیکن بنا کچھ کہے لوٹ جاتا ہے
اور تُو ہمیشہ خیالوں میں گم
ایک اپنی ہی دنیا میں کھوئی سی رہتی ہے
تُو جانتی ہے کہ کیوں تجھ میں یہ بے نیازی بھری ہوئی ہے؟
کیونکہ تجھ کو کسی مگ، سرہانے یا جُھمکے، کسی میز
یا پھر کسی آنکھ حتیٰ کہ شاعر، گویّے، یا انجان لڑکے کے دُکھ کی
ذرا سی بھی پروا نہیں ہے
تِری سوچ کے اس بہاؤ میں
کتنے ہی ارمان بہتے چلے جا رہے ہیں
مگر تجھ کو اس رائیگانی سے کیا
تُو بتا کیا یوں ہی سوچ میں گم رہے گی سدا؟
اے پری زاد لڑکی بتا؟
حمزہ سواتی
No comments:
Post a Comment