Monday, 10 January 2022

تری پشتو تری باتیں ترا لہجہ نہیں بھولا

 تِری پشتو، تِری باتیں، تِرا لہجہ نہیں بُھولا

وہ تیرا مسکرا کر “زہ مڑا” کہنا، نہیں بھولا

بھلے ناراض ہو لیکن کبھی موڑا نہیں خالی

تِری دریا دلی مولا،۔ تِرا منگتا نہیں بھولا

سو میں نے فون رکھنے سے زرا پہلے کہا اس سے

ہمیشہ ساتھ رہنے کا تِرا وعدہ نہیں بھولا

جہاں پر ساتھ بیٹھے تھے وہ جگہیں یاد ہیں اب بھی

کھلا آنگن، تِرا گھر اور وہ جُھولا نہیں بھولا

بہت ہی پیار سے پالا ہوا تھا آستینوں میں

مگر وہ سانپ تھا سو وہ مجھے ڈسنا نہیں بھولا

اُسے یکدم بھلانے کا ارادہ تھا مِرا حمزہ

مگر جتنا بھلانا تھا ابھی اتنا نہیں بھولا


حمزہ سواتی

No comments:

Post a Comment