جذبات میں مچلتی جوانی پڑی رہی
پنگھٹ پہ کوئی یاد سُہانی پڑی رہی
آنکھیں ترستی تھیں تِرے دیدار کو صنم
پہلو میں تیری یاد دہانی پڑی رہی
ترکِ تعلقات کو مدت ہوئی، مگر
تصویر پاس اس کی پرانی پڑی رہی
بنیاد میں تھا گھر کی لہو پُرکھوں کا پڑا
رشتے بکھر گئے یہ نشانی پڑی رہی
رشتوں کی ریل پیل میں تنہا ہی منتظر
دادی پڑی رہی کبھی نانی پڑی رہی
بیٹا مِرا کھلونوں کی ضد کرتا رہ گیا
چُپ چاپ بیٹی میری سیانی پڑی رہی
عجلت میں تھا جو راجہ وہ اٹھ کر چلا گیا
بستر پہ رات کی تھی جو رانی پڑی رہی
صائم علی
No comments:
Post a Comment