Monday, 10 January 2022

جو گزرتی ہے محبت میں بتا دیتے ہیں

جو گزرتی ہے محبت میں بتا دیتے ہیں

دل کی دھڑکن سے نیا شعر سنا دیتے ہیں

ہم نے سیکھا ہے لکیروں کو منقش کرنا

آئینہ دیکھ کے تصویر بنا دیتے ہیں

ہم ہیں خاموش تو پھر کوئی سبب ہی ہو گا

أپ کہتے ہیں تو پھر حشر اٹھا دیتے ہیں

دل کے مندر میں سجاتے ہو انا کے بت کیوں

تم کو کیا چیز یہ پتھر کے خدا دیتے ہیں

انکساری کی رسائی ہے دلوں تک ایسی

جو بھی ملتا ہے اسے دل سے دعا دیتے ہیں

پیار بهی کھیل بنایا ہے عجب لوگوں نے

ایک تصویر بناتے ہیں، مٹا دیتے ہیں

ان پرندوں کے تعاقب میں نہ جانا زہرا

جب یہ اڑتے ہیں تو گھر بار بهلا دیتے ہیں


زہرا بتول

No comments:

Post a Comment