Monday, 10 January 2022

ذہن میں اور کوئی ڈر نہیں رہنے دیتا

 ذہن میں اور کوئی ڈر نہیں رہنے دیتا

شور اندر کا ہمیں گھر نہیں رہنے دیتا

کوئی خوددار بچا لے تو بچا لے ورنہ

پیٹ کاندھوں پہ کوئی سر نہیں رہنے دیتا

آسماں بھی وہ دکھاتا ہے پرندوں کو نئے

ہاں مگر ان پہ کوئی پر نہیں رہنے دیتا

خشک آنکھوں میں اتر آتا ہے بادل بن کر

درد احساس کو بنجر نہیں رہنے دیتا

ایک پورس بھی تو رہتا ہے ہمارے اندر

جو سکندر کو سکندر نہیں رہنے دیتا

ان میں اک ریت کے دریا سا ٹھہر جاتا ہے

خوف آنکھوں میں سمندر نہیں رہنے دیتا

حادثوں کا ہے دھندلکا سا دوج آنکھوں میں

خوبصورت کوئی منظر نہیں رہنے دیتا


دوجیندر دوج 

دوجیندر دوِّج 

No comments:

Post a Comment