Saturday, 4 December 2021

میرا سر کب کسی دربار میں خم ہوتا ہے

 میرا سر کب کسی دربار میں خم ہوتا ہے

کوچۂ یار میں لیکن یہ قدم ہوتا ہے

پُرسش حال بھی اتنی کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں

اس تکلف سے کرم ہو تو ستم ہوتا ہے

شیخ مے خانہ میں کرتا ہے ارم کی باتیں

اسی مے خانہ کا اک گوشہ ارم ہوتا ہے

ایک دل ہے کہ اجڑ جائے تو بستا ہی نہیں

ایک بت خانہ ہے اجڑے تو حرم ہوتا ہے

راہ بر راہ نوردی سے پریشاں ہے کمال

جس طرف جائے مِرا نقش قدم ہوتا ہے


کمال احمد صدیقی

No comments:

Post a Comment