Thursday, 2 December 2021

یہ حرص و ہوس کے سودائی آداب محبت کیا جانیں

 یہ حِرص و ہوس کے سودائی آدابِ محبت کیا جانیں

یہ عشق کے معنی کیا سمجھیں یہ حُسن کی قیمت کیا جانیں

ہم چُومتے رہتے ہیں ہر دم فطرت کی حسِیں پیشانی کو

آزاد منش ہم اہلِ نظر قانون و شریعت کیا جانیں

ہو خوفِ جہنم جس میں نہاں جنت کی ہوس ہو جس میں عیاں

اللہ کے سادہ دل بندے ہم ایسی عبادت کیا جانیں

ہوں پھولوں کی سیجیں جن کے لیے کانٹوں کی چبھن کیا سمجھیں گے

جن کے نہ لگی ہو چوٹ کبھی وہ درد کی لذت کیا جانیں

جو سیم و زر میں تولتے ہیں کونین کی ہر اک جنسںِ گراں

انسان کے دل کی قیمت کو وہ صاحبِ دولت کیا جانیں

انسان جہاں بھی پاتے ہیں ہم دل سے اسے اپناتے ہیں

یہ مذہب و ملت کے جھگڑے ہم اہلِ محبت کیا جانیں


سیدہ فرحت

No comments:

Post a Comment