آئینۂ امید نہ ہو پاش پاش پھر
پھرتی ہے دربدر لیے فکرِ معاش پھر
دو چار ہو نہ جاؤں کسی حادثے سے میں
ہوتا ہے بائیں آنکھ میں آج ارتعاش پھر
گلشن میں خار خار ہیں نیزہ لیے ہوئے
میرے بدن کو آج ملے گی خراش پھر
عریانیت کی موج تھی طوفان کی نقیب
تہذیب کا سفینہ ہوا پاش پاش پھر
مر کر ہی میرے دل سے نکلتی ہے آرزو
لے جا رہا ہوں دفن کو اک اور لاش پھر
ملتی نہیں ہے جنسِ وفا جانتے تو ہو
کرتے ہو کیوں شفیق وفا کی تلاش پھر
شفیق رائے پوری
No comments:
Post a Comment