ہے ادب میں یہی سفر، اس کا
مانگے تانگے پہ ہے گزر اس کا
جانتا ہوں، اڑان کتنی ہے؟
میں نے اک ایک ماپا، پر اس کا
بے وفائی، سرشت ہے اس کی
حسن تو ہے ہی فتنہ گر اس کا
جس میں کھائے اسی میں چھید کرے
ہے تعارف یہ مختصر، اس کا
اس کی محسن کشی کے چرچے ہیں
اس کا دشمن ہے، یار شر اس کا
تیرے معیار کا نہیں ہے، وہ
ذکر احمد رضا نہ کر اس کا
احمد رضا راجا
No comments:
Post a Comment