Saturday, 5 February 2022

عشق میں مائل درگاہ نہیں ہو سکتے

 عشق میں مائلِ درگاہ نہیں ہو سکتے

مر بھی جائیں تو تِری چاہ نہیں ہو سکتے

سب کو کنگن سے محبت نہیں ہوتی، پاگل

سارے شاعر تو وصی شاہ نہیں ہو سکتے

کون آتا ہے زمانے کی گھڑی باتوں میں

چاہنے والے تو گمراہ نہیں ہو سکتے

وہ تجھے سچ کا علمدار سمجھ لیتے ہیں

جو تِرے جھوٹ سے آگاہ نہیں ہو سکتے

یہ جو آنکھیں ہیں چراغوں کی طرح روشن ہیں

ہم اندھیروں کی گزر گاہ نہیں ہو سکتے

ڈھونڈ لی اس نے نئے عشق کی ساجھے داری

یہ جو قصے ہیں یہ افواہ نہیں ہو سکتے

تُو نے کوشش تو بہت کی ہے  مصنف لیکن

ہم کہانی میں بھی ہمراہ نہیں ہو سکتے


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment