Saturday, 5 February 2022

تیر نیزے ڈھال اور تلوار دے کر آ گیا

 تیر، نیزے، ڈھال اور تلوار دے کر آ گیا

اپنا سب کچھ ہی سپہ سالار دے کر آ گیا

ہارنے کے خوف سے یہ فیصلہ کرنا پڑا

جنگ سے پہلے میں سب ہتھیار دے کر آ گیا

عین ممکن ہے وہ میرا نام تک رہنے نہ دے

میں اسے اپنے سبھی آثار دے کر آ گیا

وقت نے دہرا دیا قصہ مرے اسلاف کا

اہل مکہ کو میں پھر گھر بار دے کر آ گیا

اپنے حصے کی حکومت بھی اسی کو سونپ دی

میں ندیم اس کو بھرا دربار دے کر آ گیا


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment