تیر، نیزے، ڈھال اور تلوار دے کر آ گیا
اپنا سب کچھ ہی سپہ سالار دے کر آ گیا
ہارنے کے خوف سے یہ فیصلہ کرنا پڑا
جنگ سے پہلے میں سب ہتھیار دے کر آ گیا
عین ممکن ہے وہ میرا نام تک رہنے نہ دے
میں اسے اپنے سبھی آثار دے کر آ گیا
وقت نے دہرا دیا قصہ مرے اسلاف کا
اہل مکہ کو میں پھر گھر بار دے کر آ گیا
اپنے حصے کی حکومت بھی اسی کو سونپ دی
میں ندیم اس کو بھرا دربار دے کر آ گیا
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment