Saturday, 5 February 2022

پانے کی طرح کا نہ تو کھونے کی طرح کا

پانے کی طرح کا نہ تو کھونے کی طرح کا

ہونا بھی یہاں پر ہے نہ ہونے کی طرح کا

معلوم نہیں نیند کسے کہتے ہیں، لیکن

کرتا تو ہوں اک کام میں سونے کی طرح کا

ہنسنے کی طرح کا کوئی موسم مِرے باہر

منظر مِرے اندر کوئی رونے کی طرح کا

ایسی کوئی حالت ہے کہ مدت سے بدن کو

اک مرحلہ درپیش ہے ڈھونے کی طرح کا

پہلے کی طرح آدمی ملتا تو ہے، لیکن

آدھے کی طرح کا کبھی پونے کی طرح کا


ندیم احمد

No comments:

Post a Comment