پھر مجھے ہر ستم گوارا ہے
آپ کہہ دیں کہ تُو ہمارا ہے
مُلتفت آپ بھی ہوئے ہیں آج
جب مجھے موت نے پُکارا ہے
موت جب زندگی سے بہتر تھی
ہم نے وہ وقت بھی گُزارا ہے
تم مجھے غیر کیوں سمجھتے ہو
اب مِرا ہر نفس تمہارا ہے
مُدتوں غم کو راز میں رکھا
اب تو یہ راز آشکارا ہے
ڈُوب جائیں گے ڈُوبنے والے
ایک تنکے کا کیا سہارا ہے
تم ہی یاد آئے ہو مصیبت میں
جب پُکارا، تمہیں پکارا ہے
تم اگر مے پلاؤ آنکھوں سے
تلخئ زیست بھی گوارا ہے
اے شفا دوست سے نہیں شکوہ
ہم کو اپنی وفا نے مارا ہے
شفا دہلوی
پریم لال
No comments:
Post a Comment