Tuesday, 11 May 2021

شکوے نہ کیا کر پس دیوار ہمارے

 شکوے نہ کیا کر پسِ دیوار ہمارے

پہلے بھی بہت سے ہیں وفادار ہمارے

اس شہر میں جو میٹھی زباں بول رہے ہیں

یہ لوگ ہیں در اصل نمک خوار ہمارے

ہم اب بھی مدینے میں انہیں ڈھونڈ رہے ہیں

لوٹے ہی نہیں جنگ سے سردار ہمارے

مقبول دعائیں بھی رکھیں زادِ سفر میں

ماؤں نے کئے قافلے تیار ہمارے

اے ہجرٍ خوش اخلاق انہیں چھوڑ نہ جانا

اب تیرے حوالے لب و رُخسار ہمارے

کم ظرف پہ کیوں خرچ کریں، کس لیے بولیں

یہ لفظ تو ہیں درہم و دینار ہمارے

بازار میں بِکنے کو پڑے سوچ رہے ہیں

ہوتے تھے کبھی شہر میں بازار ہمارے

ہم آگ سے لوگوں کو بچاتے رہے، لیکن

اس جُرم میں گھر ہو گئے مِسمار ہمارے


راکب مختار

No comments:

Post a Comment