Thursday, 9 March 2023

ہوئے تھے بین فضا میں نمی بکھر گئی تھی

 ہوئے تھے بین فضا میں نمی بکھر گئی تھی

جب ایک کونج کسی ڈار سے بچھڑ گئی تھی

کسی نے بیٹی سمجھ کر جو سر پہ ہاتھ رکھا

تو نوجوان بھکارن خوشی سے مر گئی تھی

بس ایک پھول کِھلا تھا عرب کے صحرا میں

فضائے دہر کئی خوشبوؤں سے بھر گئی تھی

میں اپنے رنگ میں ثروت کو گنگنا رہا تھا

اور عین وقت پہ اک ریل بھی گزر گئی تھی

غمِ معاش نے تقسیم کر دیا شاعر

تمہاری شکل مِرے ذہن سے اتر گئی تھی

میں اس کی قبر پہ کچھ اشک چھوڑ آیا ہوں

جو خاص لڑکی محبت کو عام کر گئی تھی


راکب مختار

No comments:

Post a Comment