Friday, 16 December 2016

پرکھنے کے لیے خود کو گماں سے نکلو تو

پرکھنے کیلئے خود کو گماں سے نکلو تو
تم اپنے حلقۂ دانشوراں سے نکلو تو
ابھی تو عشق کا پہلا ہی مرحلہ ہے جناب
نماز بعد میں، وقتِ اذاں سے نکلو تو
امامِ عشق! ہے الفت میں کیوں جنوں خیزی
تم اپنی ذات کے آتش فشاں سے نکلو تو
کوئی بتاتا نہیں ترکِ عشق کی ترکیب
ہر ایک کہتا ہے اس امتحاں سے نکلو تو
یہیں پہ رک نہیں جاتی یہ کائنات کبھی
سنو کہ ہجرۂ پیرِ مغاں سے نکلو تو

سہیل ثاقب

No comments:

Post a Comment