پرکھنے کیلئے خود کو گماں سے نکلو تو
تم اپنے حلقۂ دانشوراں سے نکلو تو
ابھی تو عشق کا پہلا ہی مرحلہ ہے جناب
نماز بعد میں، وقتِ اذاں سے نکلو تو
امامِ عشق! ہے الفت میں کیوں جنوں خیزی
کوئی بتاتا نہیں ترکِ عشق کی ترکیب
ہر ایک کہتا ہے اس امتحاں سے نکلو تو
یہیں پہ رک نہیں جاتی یہ کائنات کبھی
سنو کہ ہجرۂ پیرِ مغاں سے نکلو تو
سہیل ثاقب
No comments:
Post a Comment