بعد مدت ہنسی ہے تنہائی
دیکھ مجھ پر سجی ہے تنہائی
ایسی تنہائی ہے خدا کی پناہ
مجھ کو کھلنے لگی ہے تنہائی
دھیرے دھیرے بڑھی ہے بے چینی
گھر کی دیوار سے نکل آئی
وہ جو اس میں دبی تھی تنہائی
گو کہ ہر بار میں ہی ہارا ہوں
پھر بھی ہر پل لڑی ہے تنہائی
وحشتو اب تو چھوڑ دو پیچھا
اپنی ضد پر اڑی ہے تنہائی
آج اک خواب بھی نہیں آیا
آج اپنی لگی ہے تنہائی
یوں تو امید تم رکھو لیکن
آئی تو کب ٹلی ہے تنہائی
کچھ دکھائی نہیں دیا ثاقبؔ
آج اتنی گھنی ہے تنہائی
سہیل ثاقب
No comments:
Post a Comment