Friday, 16 December 2016

بعد مدت ہنسی ہے تنہائی

بعد مدت ہنسی ہے تنہائی
دیکھ مجھ پر سجی ہے تنہائی
ایسی تنہائی ہے خدا کی پناہ
مجھ کو کھلنے لگی ہے تنہائی
دھیرے دھیرے بڑھی ہے بے چینی 
دھیرے دھیرے بڑھی ہے تنہائی
گھر کی دیوار سے نکل آئی
وہ جو اس میں دبی تھی تنہائی
گو کہ ہر بار میں ہی ہارا ہوں
پھر بھی ہر پل لڑی ہے تنہائی
وحشتو اب تو چھوڑ دو پیچھا
اپنی ضد پر اڑی ہے تنہائی
آج اک خواب بھی نہیں آیا
آج اپنی لگی ہے تنہائی
یوں تو امید تم رکھو لیکن 
آئی تو کب ٹلی ہے تنہائی
کچھ دکھائی نہیں دیا ثاقبؔ
آج اتنی گھنی ہے تنہائی

سہیل ثاقب

No comments:

Post a Comment