Friday, 16 December 2016

مستی میں لہراتا ہوں خوش رہتا ہوں

مستی میں لہراتا ہوں خوش رہتا ہوں
پاگل ہوں ناں، گاتا ہوں، خوش رہتا
ہر شب جھیل کنارے جا کر چپکے سے 
چاند کو میں چھو آتا ہوں خوش رہتا ہوں
پہلے اس کی آنکھیں دھیان میں آتی ہیں 
پھر ساغر چھلکاتا ہوں، خوش رہتا ہوں
ترکِ عشق تو دونوں کی تھی مجبوری
دل کو پھر سمجھاتا ہوں، خوش رہتا ہوں
ممکن نا ممکن کی باتوں میں اکثر 
جب خود کو الجھاتا ہوں، خوش رہتا ہوں
اس کے خوابوں کے پہلو میں آ کر میں 
چپکے سے سو جاتا ہوں، خوش رہتا ہوں
مجھ کو تنہا رستے راس نہیں آتے
بھیڑ میں دھکے کھاتا ہوں خوش رہتا ہوں
راز یہی ہے میرے ہنستے رہنے کا
لوگوں کو خوش پاتا ہوں خوش رہتا ہوں
سگرٹ ہو کہ دل ہو اپنا میں ثاقبؔ
ان کو جب سلگاتا ہوں خوش رہتا ہوں

سہیل ثاقب

No comments:

Post a Comment