تہیہ
ہمارے دور میں ہو گا نہ جان و مال کا خطرہ
غریبوں کو نہ ہونے دیں گے استحصال کا خطرہ
ہم اب کے سے نہیں لیں گے کسی جنجال کا خطرہ
نہ ہو گا مال تو کیوں ہو گا بیت المال کا خطرہ
مصمم اب ارادہ کر لیا ہے، اب اٹل ہو گا
تہیہ کر چکے ہیں ہم کہ رشوت ختم کر دیں گے
خدا کے نام پر یہ قتل و غارت ختم کر دیں گے
کوئی جاہل نہیں ہو گا، جہالت ختم کر دیں گے
مبارک اہلِ پاکستان، غربت ختم کر دیں گے
مگر یہ سب کریں کیسے، یہی تو غور کرنا ہے
تہیوں پر عمل ہو، یہ تہیہ اور کرنا ہے
ضامن جعفری
No comments:
Post a Comment