Friday, 16 December 2016

ہر ستم کے سامنے دیوار ہوں

عورت

”زندگی سے برسرِ پیکار ہُوں“
ہر ستم کے سامنے، دیوار ہوں
کچھ تو اے تہذیبِ انساں احتیاط
میں ترا، آئینۂ کردار ہوں
وقت نے، سیسہ پِلایا ہے مجھے
یہ نہ سمجھو، ریت کی دیوار ہوں
ریشم و کمخواب میں پہلے تھی، اب
تیغ ہوں، اور، تیغِ جوہر دار ہوں
یہ مِرا، پروردۂ آغوش ہے
میں بشر کا، طرۂ دستار ہوں
میری تنہائی ہے، رشکِ انجمن
خامشی کے روپ میں گفتار ہوں
اندمالِ زخم کی ضامؔن ہوں میں
میں علاجِ زخمِ دامن دار ہوں​

ضامن جعفری

No comments:

Post a Comment