مولوی صاحب جنت میں
وارد جنت ہوئے جب مولوی عبدالودود
مستقل پڑھتے ہوئے چلہ کے صلوات و درود
اک نگاہ طائرانہ ڈال کے سب پر بزود
بولے کچھ اسلام کا خطرے میں لگتا ہے وجود
میری نظروں کو تو یہ ماحول کچھ بھاتا نہیں
کیسی جنت ہے،۔ کوئی اپنا نظر آتا نہیں
دو قدم آگے بڑھے تو حور اک آئی نظر
حسن کی ہر دنیاوی تعریف سے تھی بالاتر
اس سے بولے، کون ہو تم اور برقعہ ہے کدھر
کس جگہ رہتی ہو، شاید پاس ہی ہو میرا گھر
ہو ابھی ناکتخدا یا بس گئیں، دل شاد ہو
میں ابھی آیا ہوں، ”سیٹ“ ہو لوں تو گھر آباد ہو
سٹپٹا کر حور بھاگی سن کے یہ ٹیڑھے سوال
لگ رہا تھا پا گئی ہے آپ کا حسنِ خیال
یہ ڈرے، الله کو معلوم ہے سب دل کا حال
خاطر وحشی نہ ہو جائے کہیں جاں کا وبال
جانے کیوں جنت کا سودا تھا اور اکثر تھا مجھے
حجرۂ مسجد میں بھی سب کچھ میسر تھا مجھے
پھر خیال آیا، کوئی مسجد نہیں آئی نظر
کیا یہاں الله کا اپنا نہیں ہے کوئی گھر؟
دی صدا حق نے، دلِ انسان ہے میرا مستقر
اور سب محوِ عبادت ہیں بہ انداز دِگر
پوچھا یا رب! کتنے فقہے، کتنے عالم ہیں یہاں؟
میرے مسلک پر ہیں یا سب غیر مسلم ہیں یہاں؟
سن کے یہ سب ان کی باتیں، دیکھ کر یہ ان کے گُن
حور اک یوں دوسری کے کان میں بولی کہ سُن
منحنی سے قد پہ، یہ ہنگامہ آرائی کی دُھن
ہیں مجّسم، معنئ کُل قلِیلُن فِتنتُن
آدمی لگتے نہیں، مجموعۂ جنات ہیں
بولتے سنیے تو اْنَّ اَنکَرُ الاصوات ہیں
ان کے مذہب میں نہیں تھی کیا دلآزاری حرام؟
کون سے مذہب کو یہ اسلام کا دیتے تھے نام؟
نام پر اللہ کے مروایا سبھی کو صبح و شام
خود نہیں حاصل کیا لیکن شہادت کا مقام
مجھ کو ڈر ہے حور و غلماں سب کو لڑوائیں گے یہ
اب یہاں ذاتی نظامِ مصطفیٰ لائیں گے یہ
ضامن جعفری
No comments:
Post a Comment