تُو اور نہ میں اور نہیں اور نہ ہاں اور
اربابِ یقیں اور ہیں اصحابِ گماں اور
سب اہلِ چمن ذکرِ چمن میں ہیں مگر دوست
پھولوں کی زباں اور ہے کانٹوں کی زباں اور
آنکھوں کو بچھا دل کو جھکا دیدہ و دل ماں
ڈھونڈیں گے کسی اور کو وہ پائیں گے کس کو
جائیں گے تِرے در سے وہ جائیں گے کہاں اور
ہر مست ذہین اور ہی عالم میں ہے سرمست
مئے اور نہ جام اور نہ وہ پیرِ مغاں اور
ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی
No comments:
Post a Comment