Monday, 20 September 2021

میں جینا چاہتا ہوں مگر

 میں جینا چاہتا ہوں مگر


میں جینا چاہتا ہوں

مگر کیڑے مکوڑوں اور 

بے مایہ مخلوقات کی طرح

رینگ رینگ کر نہیں

میں جینا چاہتا ہوں

مگر اپنے باطن میں

کلبلاتے شر پر

ظاہری اخلاق کی ردا

ڈال کر نہیں

میں جینا چاہتا ہوں

مگر ایسے نہیں

کہ میرے وجود کے اندر

بغض ہوس اور ریا کاری کی 

بارودی سرنگیں

بچھی ہوں

اور ہر لحظہ ہر پل

یہ خوف

کہ کب کوئی

ریموٹ کنٹرول سے

انا اور غیرت احساس اور جذبے

کی خوبصورت عمارتوں کو

ڈھا دے

میں جینا چاہتا ہوں

اپنے پورے وجود کی ساری اکائیوں کے ساتھ

اور مجھے یہ احساس نہ ستائے

کہ یہ زندگی

کسی کی بھیک میں دی ہوئی سانسوں کا حصہ ہے

میں جینا چاہتا ہوں

ایک ایسی دنیا میں

جہاں ملک گیری کے جنون

اتنے شدید نہ ہوں کہ

ایٹمی توانائی سے ممیز آلات 

فضا کو مسموم کر دیں

انسان اس کی ہزاروں برسوں کی پرانی قدریں

ایسی پامال ہو جائیں جیسے حقیر ذرے

مگر میں جانتا ہوں

یہ سب ممکن نہیں

تو میں مرنا چاہوں گا

پر ایسی موت نہیں

کہ میری لاش کو

قبرستان تک پہنچانے میں

تکلف مجبوری اور زبردستی کا شائبہ ہو

یا دعا میں ہلتے ہوئے لب

اور اٹھائے ہوئے ہاتھ

مجبوراً و رسماً ہوں

ہاں ایسی موت جو کسی کی آنکھوں میں

ٹھہرے ہوئے چند قطرے

خاموشی سے میرے کفن میں

جذب ہو جائیں

اور بس


یوسف تقی

No comments:

Post a Comment