Monday, 20 September 2021

ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں

 ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں

حادثوں کی نظر میں رہتے ہیں

چاند سورج میں آپ کا چہرہ

آپ شام و سحر میں رہتے ہیں

ہم سے بھی مل کبھی گھڑی بھر کو

ہم بھی تیرے نگر میں رہتے ہیں

گفتگو میں تمہی جھلکتے ہو

ہم تمہارے اثر میں رہتے ہیں

اس کی یادیں بسی ہیں یوں مجھ میں

جیسے پنچھی شجر میں رہتے ہیں

ہم دھوئیں کی مثال ہیں لودھی

ہم ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں


رفیق لودھی

No comments:

Post a Comment