کر دیا جس نے ہزاروں کا کلیجہ پانی
پھر تو یہ حال ہوا، ٹوٹ کے برسا پانی
میں نے بر وقت ستم گر کو پلایا پانی
راس آنے لگا ہے مجھ کو یہاں کا پانی
عشق کی آب و ہوا بھائی طبیعت کو بہت
مل گیا شہر میں دیوانے کو دانہ پانی
کاش معصوم صفت لوگوں کو معلوم تو ہو
تُو نے کاٹا تو کسی نے بھی نہ مانگا پانی
بسترِ مرگ پہ ہیں تیری محبت کے مریض
تُو پلا دے انہیں نظروں کا ذرا سا پانی
ڈھونڈ لیں سب کوئی محفوظ ٹھکانا، ورنہ
کچھ نہ کر پائیں گے بستی میں جو آیا پانی
ذائقہ کیوں ہے الگ، اب یہ سمجھ میں آیا
بدلی تھی آب و ہوا،۔ اس لیے بدلا پانی
تم تو کہتے تھے کہ اب سُوکھ گئی ہے وہ ندی
سخت موسم میں بھی ہے یاں تو غضب کا پانی
راشد انور
No comments:
Post a Comment