Monday, 20 September 2021

دور دنیا سے تیرگی ہو گی

دور دنیا سے تیرگی ہو گی

دل جلے گا تو روشنی ہو گی

کشمکش وہ بھی کشمکش پیہم

اور کیا شرح زندگی ہو گی

خون دل ہے کہ پی رہے ہیں ہم

اب نہ ہونٹوں پہ تشنگی ہو گی

بارہا تم نے دل کی دھڑکن میں

میری آواز بھی سنی ہو گی

کام آ جائے گر محبت میں

زندگی فیض! زندگی ہو گی


ابراہیم فیض

No comments:

Post a Comment